اردو ادب پر ایک جامع اور خوبصورت پیراگراف درج ذیل ہے:
اردو ادب کا حسن
اردو ادب دنیا کے امیر ترین اور سحر انگیز ادبی سرمایوں میں سے ایک ہے، جو اپنی شیرینی، تہذیب اور گہرائی کے باعث منفرد پہچان رکھتا ہے۔ اس کی جڑیں صوفیانہ روایات، دیسی تہذیبوں اور فارسی و عربی کے گہرے اثرات میں پیوست ہیں۔ میر تقی میر کی دردمندی، مرزا غالب کی فلسفیانہ اپروچ اور علامہ اقبال کے انقلابی افکار نے اردو شاعری کو وہ عروج بخشا کہ یہ انسانی روح کی ترجمان بن گئی۔ نثر کے میدان میں بھی اردو ادب کسی سے پیچھے نہیں؛ جہاں داستانوں کے سحر اور پریم چند کے افسانوں میں چھپی دیہی زندگی کی سچائیوں سے لے کر منٹو کے تلخ مگر حقیقت پسندانہ بیانیے اور قرۃ العین حیدر کے شعور کی رو تک، اس ادب نے انسانی نفسیات، معاشرتی نشیب و فراز اور تاریخ کو اپنے دامن میں سمیٹا ہے۔ اردو ادب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ برصغیر کی گنگا جمنی تہذیب، محبت، رواداری اور انسانی جذبات کا ایک ایسا آئین خانۂ ہے جس کی چمک وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید نکھرتی جا رہی ہے۔
